بندے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان گناہوں کی ایک حد مقرر ہوتی ہے۔ جب بندہ اُس حد تک پہنچ جاتا ہے تو اُس کے دل پر مُہر لگ جاتی ہے اور پھر اسے کسی بھی نیکی کی توفیق نہیں ہوتی۔ اور اسی قساوت قلبی کی وجہ سے جھوٹ ۔، نسیان ، خیانت اور بہتان جیسے گناہ پے در پے سرزد ہونے لگتے ہیں....
چناچہ نفس کو قابو رکھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ انسان اپنی گزشتہ رات کا محاسبہ کرے اگر نعمت دیکھے تو شکر کرے اور اگر کوئی آفت دیکھے تو استغفار کرے ۔ اگر اپنے اندر اہل ایمان کے اوصاف دیکھے تو اللہ کی رحمت کا امیدوار ہو کر خوشی محسوس کرے اگر اپنے اندر گمراہی دیکھے تو غمیگن ہوجاۓ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
No comments:
Post a Comment