Translate

Tuesday, 9 September 2014

اللہ اسباب کا محتاج نہیں، اسباب اللہ کے محتاج ہیں۔..!


مثلاً :
چھری اللہ کے امر سے کاٹتی ہے جب نہ کاٹنے کا حکم ملا تو چھری نے کاٹنا چھوڑ دیا۔
آگ اللہ کے حکم سے جلاتی ہے جب نہ جلانے کا حکم ہوا تو آگ نے جلانا چھوڑ دیا۔
اللہ خیر کے اسباب سے ذلیل و رسوا کر سکتا ہے اور دکھ اور تکلیف کے اسباب سے سکھ اور عزت کا سامان پیدا کر سکتا ہے۔
مثلاً :
اللہ نے نمرود سے اس کا تخت نہیں چھینا بلکہ اس کی بادشاہی اور تخت پر ہی اس کو ذلیل و رسوا کر دیا۔
قارون سے اسکے خزانے نہیں چھینے بلکہ اسکے خزانوں سمیت اسکو غرق کر دیا۔
دوسری طرف حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی زندگی کے بہترین دن آگ میں گزارے۔
تو دوستو! اسباب اختیار ضرور کریں کہ یہ بھی اللہ ہی کا حکم ہے، لیکن اس پر یقین نہ رکھیں بلکہ یقین اور امید صرف اللہ سے رکھیں۔
آج ہم اگر تکلیف میں ہیں تو اسباب سے زیادہ اللہ کو منانے کی ضرورت ہے۔ اگر وہ راضی ہو جائے تو یہی اسباب ہمارے لیے عزت اور خیر پیدا کریں گے، اگر ہم نے اس کو نہیں منایا تو ان اسباب سے وہی ہو گا جو اللہ چاہے گا۔
اُس پیارے رب کو منانا کچھ مشکل نہیں۔
اپنے بندے کی آنکھ میں ندامت کی نمی پر اسکی رحمت کا سمندر جوش مارنے لگتا ہے۔ پس توبہ کرو اور اللہ کی طرف لوٹ جاؤ۔۔!!

No comments:

Post a Comment