ASSALAM ALIEKUM MARKAZ E IRFANIYA KE QAYAAM KA MAQSAD SIRF OR SIRF INSANIYAT KO FAIDA PUHENCHANA HAI ,KE IK DUSRAY KI MADAD KARNE MAY HI HAQEQI KAMYABI HAI ,INSAAN KO SIRF INSAAN SAMJH KAR USKI MADAD KAREN NA KISI MAZHAB NA KISI FIRQAY NA KISI RUNG KI BUNYAAD PAR. AEN AP BHI IS KAAM MAY HAMARA SAATH DEJEYEA..
Translate
Monday, 29 September 2014
داکٹر تیزی سے ہسپتال میں داخل ہوا
داکٹر تیزی سے ہسپتال میں داخل ہوا ، کپڑے تبدیل کیے اور سیدھا آپریشن تھیٹر کی طرف بڑھا ۔ اسے ایک بچے کے آپریشن کے لیے فوری اور ہنگامی طور پر بلایا گیا تھا... ہسپتال میں موجود بچے کا باپ ڈاکٹر کو آتا دیکھ کر چلایا ، "اتنی دیر لگا دی؟ تمہیں پتا نہیں میرا بیٹا کتنی سخت اذیت میں ہے ، زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے ، تم لوگوں میں کوئ احساس ذمہ داری نہیں ہے ؟"۔ "مجھے افسوس ہے میں ہسپتال میں نہیں تھا ، جیسے ہی مجھے کال ملی میں جتنی جلدی آ سکتا تھا آیا ہوں " ، ڈاکٹر نے مسکرا کر جواب دیا ۔ "اب میں چاہوں گا کہ آپ سکون سے بیٹھیئے تاکہ میں اپنا کام شروع کر سکوں" "میں اور سکون سے بیٹھوں ، اگر اس حالت میں تمہارا بیٹا ہوتا تو کیا تم سکون سے بیٹھتے ؟ اگر تمہارا اپنا بیٹا ابھی مر رہا ہو تو تم کیا کرو گے ؟" باپ غصے سے بولا ۔ ڈاکٹر نے پھر مسکرا کر کہا ، " ہماری مقدس کتاب کہتی ہے کہ ہم مٹی سے بنے ہیں اور ایک دن ہم سب کو مٹی میں مل جانا ہے ، اللہ بہت بڑا ہے اور غفور رحیم ہے ڈاکٹر کسی کو زندگی نہیں دیتا نہ کسی کی عمر بڑھا سکتا ہے ۔ اب آپ آرام سے بیٹھیں اور اپنے بیٹے کے لیے دعا کریں ۔ ہم آپ کے بیٹے کو بچانے کی پوری کوشش کریں گے "۔ "بس ان لوگوں کی نصیحتیں سنو چاہے تمہیں ان کی ضرورت ہو یا نہ ہو ۔ بچے کا باپ بڑبڑایا "۔ آپریشن میں کئ گھنٹے لگ گئے لیکن بالآخر جب ڈاکٹر آپریشن تھیٹر سے باہر آیا تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی، " تمہارا بیٹا اب خطرے سے باہر ہے ، اگر کوئ سوال ہو تو نرس سے پوچھ لینا" ۔ یہ کہہ کر وہ آگے بڑھ گیا ۔ "کتنا مغرور ہے یہ شخص ، کچھ لمحے کے لیے بھی نہیں رکا کہ میں اپنے بچے کی حالت کے بارے میں ہی کچھ پوچھ لیتا" ، بچے کے باپ نے ڈاکٹرکے جانے بعد نرس سے کہا ۔ نرس نے روتے ہوئے جواب دیا ، " اس کا بیٹا کل ایک ٹریفک کے حادثے کا شکار ہو گیا تھا ، جب ہم نے اسے آپ کے بیٹے کے لیے کال کی تھی تو وہ اس کی تدفین کرریا تھا ۔ اور اب جبکہ اس نے آپ کے بیٹے کی جان بچالی ہے دوبارہ تدفین کو مکمل کرنے گیا ہے"۔ کبھی کسی پر بےجا تنقید نہ کرو کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ دوسرے کی زندگی کیسی ہے اور وہ کن کن مشکلات میں مبتلا ہے،ہم نہیں جانتے کہ وہ ہمہارے کام آنے کے لیے کتنی بڑی قربانی دے رہا ہے ۔اس لئے کسی کے بارے میں بدگمانی نہیں رکھنی چاہئیے، اسی لئے اللّٰہ اور رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بدگمانی کرنے سے منع فرمایا ہے، حدیث نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہے.... "حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " تم بد گمانی سے بچو۔ اس لیے کہ بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے۔" )بخاری:5143مسلم:2563( بلاشبہ یہ تاکید ہی اس بات کی دلیل ہے کہ یقیناً بدظنی ایک بہت ہی بری چیز ہے اور اس سے بڑے بڑے خطرات وجود میں آتے ہیں.
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment