ASSALAM ALIEKUM MARKAZ E IRFANIYA KE QAYAAM KA MAQSAD SIRF OR SIRF INSANIYAT KO FAIDA PUHENCHANA HAI ,KE IK DUSRAY KI MADAD KARNE MAY HI HAQEQI KAMYABI HAI ,INSAAN KO SIRF INSAAN SAMJH KAR USKI MADAD KAREN NA KISI MAZHAB NA KISI FIRQAY NA KISI RUNG KI BUNYAAD PAR. AEN AP BHI IS KAAM MAY HAMARA SAATH DEJEYEA..
Translate
Monday, 25 August 2014
RAAZDAR KON ....!
بہترین رازدار بنو
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حفصہ رضی اللہ عنہا بیوہ ہوئیں تو میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے ملا او کہا کہ اگر تم چاہو تو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کا نکاح تم سے کردوں . حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں اس معاملے پر غور کرونگا. میں نے کئی راتوں تک ان کا انتظار کیا پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ مجھ سے ملے اور بولے کہ ابھی شادی کرنے کا ارادہ نہیں ہے.
میں پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور کہا اگر آپ پسند فرمائے تو حضرت حفصہ کو اپنی زوجیت میں لے سکتے ہیں. وہ خاموش رہے اور کوئی جواب نہیں دیا. مجھے ان کی خاموشی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے جواب سے بھی کھلی معلوم ہوئی.
اسی طرح کئی دن گزرگئے اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نکاح کا پیغام بھیجا اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حضرت حفصہ کا نکاح کر دیا.
اس کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھ سے ملے اور فرمایا: تم نے مجھ سے حضرت حفصہ کا ذکر کیا تھا اور میں نے خاموشی اختیار کی تھی .ہو سکتا ہے تمھیں میری خاموشی سے تکلیف ہوئی ہو. میں نے کہا ہاں تکلیف تو ہوئی تھی . فرمایا :" مجھے معلوم تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خود ایسا خیال ہے اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک راز تھا جس کو میں ظاہر کرنا نہ چاہتا تھا.اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حفصہ کا ذکر نہ فرماتے تو میں ضرور قبول کر لیتا."
) بخاری (
ایک دن حضرت انس رضی اللہ عنہ لڑکوں میں کھیل رہے تھے اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہمیں سلام کیا پھر اپنی ایک ضرورت بتا کر مجھے بھیجا . مجھے اس کام کے کرنے میں دیر لگی. کام سے فارغ ہو کر جب گھر گیا تو ماں نے پوچھا اتنی دیر کہاں لگائی. میں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک ضرورت سے بھیجا تھا . ماں بولیں ' کیا ضرورت تھی' میں نے کہا وہ راز کی بات ہے .ماں نے کہا : دیکھو ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز کسی کو نہ بتانا.
) مسلم(
جب دوست احباب آپ پر اعتماد کر کے آپ سے دل کی بات کہہ دیں تو اس کی حفاظت کیجیے اور کبھی کسی کا راز فاش کر کے کسی کے اعتماد کو ٹھیس نہ پہنچائے. اپنے سینوں کو رازوں کا محفوظ دفینہ بنائیے تاکہ دوست بغیر جھجک کے ہر
معاملہ میں آپ سے مشورہ طلب کریں اور آپ اچھا مشورہ دے کر ان کی تعاون کر سکیں.
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment